مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، مِسْعَرٍ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأُعْطِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي فِيهِ وَضَعْتُهُ، وَأَشْرَبُ الشَّرَابَ فَأُنَاوِلُهُ فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كُنْتُ أَشْرَبُ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی سے گوشت نوچتی، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے جہاں میں رکھتی تھی اور میں پانی پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھ کر پیتے جہاں سے میں پیتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض 3 (300)، سنن النسائی/الطھارة 56 (70)، 177 (280)، 187 (281)، والمیاہ 9 (342)، والحیض 14 (377)، 15 (380)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 125 (643)، (تحفة الأشراف: 16145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/62، 64، 127، 192، 210، 214) دی/الطہارة 108(1101) (صحیح)»
وضاحت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت عدیم المثال تھی۔ ایام حیض اور جنابت کی حالت میں کوئی بھی مسلمان حقیقی طور پر نجس نہیں ہوتا۔ محض شرعی آداب کے تحت اسے نماز پڑھنے یا مسجد میں داخل ہونے وغیرہ سے روکا گیا ہے اور اس معنی میں اسے غیر طاہر کہا جاتا ہے۔ ویسے اس کا لعاب اور پسینہ سب پاک ہوتا ہے اور اس کے لمس سے دوسرے طاہر ساتھی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ذکر، اذکار اور تلاوت میں مشغول رہ سکتا ہے، کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (300)
الحكم: صحيح