بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنبی بھول کر نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: جنبی بھول کر نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 233 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر پڑھانی شروع کر دی، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم سب لوگ اپنی جگہ پر رہو، (پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے گھر تشریف لے گئے، غسل فرما کر) واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اس کے بعد آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11665)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/41،45) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وللحديث شاھد حسن عند أحمد (2/448 ح 9786) وسنده حسن، وانظر صحيح البخاري (275) وصحيح مسلم (605)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 234 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، الرَّبِيعِ بْنِ مُحَمَّدٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ: فَكَبَّرَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ، انْصَرَفَ، ثُمَّ قَالَ: كَمَا أَنْتُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ عَوْنٍ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَبَّرَ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَوْمِ أَنِ اجْلِسُوا، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَاه مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَبَّرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس طریق سے بھی حماد بن سلمہ نے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس کے شروع میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، اور آخر میں یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، میں جنبی تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: جب آپ مصلیٰ پر کھڑے ہو گئے اور ہم آپ کی تکبیر (تحریمہ) کا انتظار کرنے لگے، تو آپ (وہاں سے) یہ فرماتے ہوئے پلٹے کہ تم جیسے ہو اسی حالت میں رہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن عون اور ہشام نے اسے محمد سے، محمد بن سیرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی، پھر اپنے ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے گئے اور غسل فرمایا۔ اور اسی طرح اسے مالک نے اسماعیل بن ابوحکیم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے (مرسلاً) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ہم سے ابان نے بیان کیا ہے، ابان یحییٰ سے، اور یحییٰ ربیع بن محمد سے اور ربیع بن محمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18634،11665) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
یہ حدیث پچھلی حدیث ۲۳۲ کا تسلسل ہے یعنی وہ بھی ساتھ پڑھیں۔ جسے مسجد میں جنابت لاحق ہو جائے اس کے لیے ضروری نہیں کہ تیمم کر کے باہر نکلے جیسے کہ بعض کا خیال ہے۔ اقامت اور تکبیر میں کسی معقول سبب سے فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں دوبارہ اقامت کہنے کی ضرورت نہیں۔ مقتدیوں کو چاہیے کہ اپنے مقرر امام کا انتظار کریں، اگر کھڑے بھی رہیں تو جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وانظر الحديث السابق (233)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 235 سنن ابو داؤد
عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيُّ ، عَيَّاشُ بْنُ الْأَزْرَقِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسَ ، مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ، الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ. ح وحَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْأَزْرَقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ. ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ صَنْعَاءَ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ. ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَصَفَّ النَّاسُ صفوفهم، فخرج:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مَقَامِهِ، ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَنَحْنُ صُفُوفٌ"، وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ حَرْبٍ، وَقَالَ عَيَّاشٌ فِي حَدِيثِهِ: فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نماز کے لیے اقامت ہو گئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے، یہاں تک کہ جب اپنی جگہ پر (آ کر) کھڑے ہو گئے، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے، آپ نے لوگوں سے کہا: تم سب اپنی جگہ پر رہو، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس (واپس) آئے، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ یہ ابن حرب کے الفاظ ہیں، عیاش نے اپنی روایت میں کہا ہے: ہم لوگ اسی طرح (صف باندھے) کھڑے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ غسل کئے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 17 (275)، والأذان 25 (639)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن النسائی/الإمامة 14 (793)، 24 (810)، (تحفة الأشراف: 15200،15264، 15193، 15275، 15309)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/237، 259، 283، 338، 339)، ویأتي مختصراً برقم: (541) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (639، 640) صحيح مسلم (605)
الحكم: صحيح