بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنبی مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: جنبی مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 232 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ ، جَسْرَةُ بِنْتُ دِجَاجَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دِجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور حال یہ تھا کہ بعض صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد سے لگتے ہوئے کھل رہے تھے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر کر دوسری جانب کر لو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (مسجد میں یا صحابہ کرام کے گھروں میں) داخل ہوئے اور لوگوں نے ابھی کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، اس امید پر کہ شاید ان کے متعلق کوئی رخصت نازل ہو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ ان کے پاس آئے تو فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر لو، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں سمجھتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17828) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں جسرہ بنت دجاجہ لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث کا معنی دیگر احادیث سے ثابت ہے)
وضاحت
۱؎: یہ حدیث باعتبار سند ضعیف ہے۔ البتہ حدیث کا معنی دیگر احادیث سے ثابت ہے۔ جنبی مسجد میں سے راستہ پار کرتے گزر سکتا ہے ٹھہر نہیں سکتا اور یہی حکم حائضہ اور نفاس والی عورت کا ہے۔ «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارىٰ حتىٰ تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتىٰ تغتسلوا» (سورۃ النساء ۴۳)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (462)
الحكم: ضعيف