حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسِبُ، فَبَعَثَهُمَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجْهًا، وَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ، فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَخْرَجَ، ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ حَفْنَةً فَتَمَسَّحَ بِهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَيُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ، أَوْ قَالَ: يَحْجُزُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں میں اور میرے ساتھ دو آدمی جن میں سے ایک کا تعلق میرے قبیلہ سے تھا اور میرا گمان ہے کہ دوسرا قبیلہ بنو اسد سے تھا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ نے ان دونوں کو (عامل بنا کر) ایک علاقہ میں بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں مضبوط لوگ ہو، لہٰذا اپنے دین کی خاطر جدوجہد کرنا، پھر آپ اٹھے اور پاخانہ میں گئے، پھر نکلے اور پانی منگوایا، اور ایک لپ لے کر اس سے (ہاتھ) دھویا، پھر قرآن پڑھنے لگے، تو لوگوں کو یہ ناگوار لگا، تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء سے نکل کر ہم کو قرآن پڑھاتے، اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر گوشت کھاتے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرآن (پڑھنے پڑھانے) سے جنابت کے علاوہ کوئی چیز نہ روکتی یا مانع نہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطھارة 111 (146)، سنن النسائی/الطھارة 171 (266، 267)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 105 (594)، (تحفة الأشراف: 10186)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/84، 124) (ضعیف)» (اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کا حافظہ اخیر عمر میں کمزور ہو گیا تھا، اور یہ روایت اسی دور کی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (460)
عبد الله بن سلمة حسن الحديث وعمرو بن مرة سمع منه قبل اختلاطه
الحكم: ضعيف