مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: عَمْدًا صَنَعْتُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الطھارة 25 (277)، سنن الترمذی/الطھارة 45 (61)، سنن النسائی/الطھارة 101 (133)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 72 (510)، (تحفة الأشراف: 1928)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/350، 351، 358)، سنن الدارمی/الطھارة 3 (685) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھنے کا کام۔ تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ایک وضو سےمتعدد نمازیں نہیں پڑھی جا سکتیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (277)
الحكم: صحيح