بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 37 سنن ابو داؤد
يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُفَضَّلٌ ، عَيَّاشٍ ، شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ ، أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عَيَّاشٍ، أَنَّ شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَذْكُرُ ذَلِكَ وَهُوَ مَعَهُ مُرَابِطٌ بِحِصْنِ بَابِ أَلْيُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حِصْنُ أَلْيُونَ بِالْفِسْطَاطِ عَلَى جَبَلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ شَيْبَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يُكْنَى أَبَا حُذَيْفَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسالم جیشانی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ (مصر میں) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الیون کا قلعہ فسطاط (مصر) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 37]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 8651، 3616) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
انفرد به ابو داود، وانظر الحديث السابق
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 38 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه يَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو الزبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 38]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 17 (263)، (تحفة الأشراف: 2709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/343، 384) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (263)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 39 سنن ابو داؤد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا، قَالَ: فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید (گوبر، مینگنی)، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 39]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 9349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ہڈی جنوں کی اور لید ان کے جانوروں کی خوراک ہے، اور کوئلے سے وہ روشنی کرتے، یا اس پر کھانا پکاتے ہیں، اسی واسطے اس کو بھی روزی میں داخل کیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (375)
اسماعيل بن عياش صرح بالسماع من شيخه الشامي عند الدارقطني (1/ 55) وروايته عن الشاميين مقبولة عند الجمھور (الفتح المبين: 3/68) وانظر دارقطني (1/ 56)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 40 سنن ابو داؤد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي حَازِمٍ ، مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 40]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 40 (44)، (تحفة الأشراف: 16757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/108، 133)، سنن الدارمی/الطھارة 11 (697) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (349)
وصححه الدارقطني (1/54،55) وسنده حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 41 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ ، عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 41]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (315)، (تحفة الأشراف: 3529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف،ابن ماجه (315)
عمرو بن خزيمة مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان
وحديث مسلم (262) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15
الحكم: صحيح