بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کیا پیشاب کرتے وقت آدمی سلام کا جواب دے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: کیا پیشاب کرتے وقت آدمی سلام کا جواب دے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 16 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، سُفْيَانَ ، الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَيَمَّمَ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (ایک دن) پیشاب کر رہے تھے (کہ اسی حالت میں) ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیمم کیا، پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 16]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 28 (370)، سنن الترمذی/الطھارة 67 (90)، الاستئذان 27/(2720)، سنن النسائی/الطھارة 33 (37)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 27 (353)، (تحفة الأشراف: 7696) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (370)
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 17 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَبِي سَاسَانَ ، الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَبِي سَاسَانَ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا پھر (سلام کا جواب دیا اور) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں۔ راوی کو شک ہے «على طهر» کہا، یا «على طهارة» کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 17]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 34 (38)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 27 (350)، (تحفة الأشراف: 11580)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/80)، سنن الدارمی/الاستئذان 13 (6283) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (38)،ابن ماجه (350)
الحسن البصري مدلس (طبقات المدلسين: 2/40 وھو من الثالثة) وعنعن
والأصل الحديث شواهد دون قوله ’’حتي توضأ ‘‘
وحديث مسلم (370) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
الحكم: صحيح