بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پیشاب کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: پیشاب کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، شَيْخٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ فَكَانَ يُحَدِّثُ،عَنْ أَبِي مُوسَى، فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى أَبِي مُوسَى يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ، فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَالَ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ مَوْضِعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالتیاح کہتے ہیں کہ ایک شیخ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب بصرہ آئے تو وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیثیں بیان کرتے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں وہ ان سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھ رہے تھے، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب میں انہیں لکھا کہ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیشاب کا ارادہ کیا تو ایک دیوار کی جڑ کے پاس نرم زمین میں آئے اور پیشاب کیا، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنا چاہے تو وہ اپنے پیشاب کے لیے نرم جگہ ڈھونڈھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 3]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 9152)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/396، 399، 414) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں واقع مبہم راوی ”شيخ“ کاحال نہ معلوم ہونے کے سبب یہ حدیث ضعیف ہے)
وضاحت
۱؎: تاکہ جسم یا کپڑے پر پیشاب کے چھینٹے نہ پڑنے پائیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ أبي التياح: لم أعرفه،والحديث ضعفه النووي (المجموع شرح المھذب: 2/ 83)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 13
الحكم: ضعيف