مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، أَبُو نُعَيْمٍ ، مِسْعَرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخْذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس طریق سے بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2207) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (998)
الحكم: صحيح