بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، نَافِعًا ، ابْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَهُوَ مُشَبِّكٌ يَدَيْهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تِلْكَ صَلَاةُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز پڑھ رہا ہو اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے ہوئے ہو، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ یہ غضب کی شکار «مغضوب عليهم» قوم یہود کی نماز ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7504) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح