الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي، وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَ:" كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن عبدالرحمٰن معاوی کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرتے تھے، میں نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے، اشارہ کرتے ۱؎ اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 21 (580)، سنن النسائی/التطبیق 98 (1161)، والسھو 32 (1267) 33 (1268)، (تحفة الأشراف: 7351)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 11(48)، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1378) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے سلام پھیرنے تک برابر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اشارہ کرنے کے بعد انگلی کے گرا لینے یا «لا إله» پر اٹھانے اور «إلا الله» پر گرا لینے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (580)
الحكم: صحيح