مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَسَعُ رَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: عَنْ ابْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ: وَرَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، سَمِعْتُ أَنَسًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَطْلَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ , يَقُولُ: الصَّاعُ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَهُوَ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں (عبداللہ بن جبر کے بجائے) ابن جبر بن عتیک ہے، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں «حدثني جبر بن عبد الله.» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں «حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا» ہے، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے «يتوضأ بإناء يسع رطلين» کے بجائے: «يتوضأ بمكوك» کہا ہے اور «رطلين» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھی صاع تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 95]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہذا اللفظ أبوداود و سنن الترمذی/الصلاة 609 ولفظہ: یجزیٔ في الوضوء رطلان من ماء (تحفة الأشراف: 962) (ضعیف)» (سند میں شریک القاضی سیٔ الحفظ راوی ہیں انہوں نے کبھی اس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول کی حیثیت سے روایت کیا ہے، اور کبھی فعل کی حیثیت سے جب کہ اصل حدیث «یتوضأ بمکوک ویغتسل بخمسة مکالي» یا «یتوضأ بالمد و یغتسل بالصاع» کے لفظ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: «صحیح البخاری/الوضوء 47 (201)، صحیح مسلم/الحیض 10 (325)، سنن النسائی/الطھارة 59 (73)، 144 (230)، والمیاہ 13 (346)، (تحفة الأشراف: 962) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 112، 116، 179، 259، 282، 290)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
وسنده ضعيف
شريك القاضي مدلس وعنعن (طبقات المدلسين: 56/ 2،وھومن الثالثة)
وحديث البخاري (201) ومسلم (325) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
الحكم: ضعيف