بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 92 — باب: وضو کے لیے کتنا پانی کافی ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: وضو کے لیے کتنا پانی کافی ہے؟ حدیث 92
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 92]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/المیاہ 13 (348)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 1 (268)، تحفة الأشراف(17854)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 48 (201)، صحیح مسلم/الحیض 10 (326)، سنن الترمذی/الطہارة 42 (56)، مسند احمد (6/121) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد تقریباً چھ سو پچیس (۶۲۵) گرام کا، اس اعتبار سے صاع تقریباً دو کلو پانچ سو گرام ہوا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
رواه البيهقي (1/ 195) من حديث ابان بن يزيد العطار عن قتادة، وقتادة صرح بالسماع به
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (91) باب پر واپس اگلی حدیث (93) →