الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٌ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 106 (516)، والأدب 18 (5996)، صحیح مسلم/المساجد 9 (543)، سنن النسائی/المساجد 19 (712)، والإمامة 37 (828)، والسھو 13 (1205)، (تحفة الأشراف: 12124)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 24(81)، مسند احمد (5/295، 296، 303، 304، 310، 311)، سنن الدارمی/الصلاة 93 (1393) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر لڑکا یا لڑکی تنگ کرے اور نماز نہ پڑھنے دے تو اس کو گود میں اٹھا کر یا کندھے پر بٹھا کر نماز پڑھنی درست ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (516) صحيح مسلم (543)
الحكم: صحيح