مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ" فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟“، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی، اور فرمایا: ”لوگ اس سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 92 (750)، سنن النسائی/السھو 9 (1194)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 68 (1044)، (تحفة الأشراف: 11713)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/109، 112، 115، 116، 140، 258)، سنن الدارمی/الصلاة 67 (1339) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (750)
الحكم: صحيح