أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِي ، وَهْبِ بْنِ مَانُوسٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَحْمَدُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسٍ، قَالَ:سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ:" فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ، وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: قُلْتُ لَهُ: مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ، قَالَ: أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ: مَابُوسٌ، وَأَمَّا حِفْظِي: فَمَانُوسٌ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ. قَالَ أَحْمَدُ:عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں: تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح کا بیان ہے: میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا: (وہب کے والد کا نام) مانوس ہے یا مابوس؟ تو انہوں نے کہا: عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے (اسے «سمعت» کے بجائے «عن» سے یعنی: «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» روایت کی ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/التطبیق 76 (1136)، (تحفة الأشراف: 859)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/162-163) (ضعیف)» (اس کی سند میں وہب بن مانوس مجہول الحال راوی ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (883)
أخرجه النسائي (1136 وسنده حسن) وھب بن مانوس وثقه ابن حبان والذھبي وھو حسن الحديث ولا عبرة بمن جھله
الحكم: ضعيف