حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، لِسُلَيْمَانَ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، مُسْتَوْرِدٍ ، صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُلَيْمَانَ: أَدْعُو فِي الصَّلَاةِ إِذَا مَرَرْتُ بِآيَةِ تَخَوُّفٍ، فَحَدَّثَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُسْتَوْرِدٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، وَفِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شعبہ کہتے ہیں: میں نے سلیمان سے کہا کہ جب میں نماز میں خوف دلانے والی آیت سے گزروں تو کیا میں دعا مانگوں؟ تو انہوں نے مجھ سے وہ حدیث بیان کی، جسے انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، سعید نے مستورد سے، مستورد نے صلہ بن زفر سے اور صلہ بن زفر نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے تھے، اور اپنے سجدوں میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے، اور رحمت کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں، اور اللہ سے سوال نہ کیا ہو، اور عذاب کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں اور عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن الترمذی/الصلاة 82 (262)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1007)، والتطبیق 74 (1134)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 20 (897)، 179(1351)، (تحفة الأشراف: 3351)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/382، 384، 394، 397)، سنن الدارمی/الصلاة 69(1345) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (772)
مشكوة المصابيح (881)
الحكم: صحيح