الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مُوسَى ، عَمِّهِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى، قَالَ أَبُو سَلَمَة مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ: عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ: اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» ”اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو“ (سورۃ الواقعۃ: ۷۴) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رکوع میں کر لو“، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» ”اپنے بہت ہی بلند رب کے نام پاکیزگی بیان کرو“ (سورۃ الاعلی: ۱) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے سجدے میں کر لو“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 20 (887)، (تحفة الأشراف: 9909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/155)، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1344) (ضعیف)» (عمّہ سے مراد ایاس بن عامر ہیں جو غیر معروف ہیں، اور جن کی توثیق صرف عجلی اور ابن حبان نے کی ہے، اور یہ دونوں متساہل ہیں، ابن حجر نے ان کو صدوق لکھا ہے، حالانکہ موسی کے علاوہ ان سے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، امام ذھبی کہتے ہیں کہ «(ليس بالقوي)» یہ قوی نہیں ہیں ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود (9؍337)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (879)
أخرجه ابن ماجه (887 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (600، 601، 670 وسندھم صحيح)
الحكم: ضعيف