مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبِيهِ ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" إِذَا أَنْتَ قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَكَبِّرِ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَقَالَ فِيهِ: فَإِذَا جَلَسْتَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ فَاطْمَئِنَّ وَافْتَرِشْ فَخِذَكَ الْيُسْرَى ثُمَّ تَشَهَّدْ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ فَمِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی قصہ روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو (پہلے) «الله اكبر» کہو، پھر قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو پڑھو“، اور اس میں ہے: ”جب تم نماز کے بیچ میں بیٹھو تو اطمینان و سکون سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو ایسا ہی کرو یہاں تک کہ تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 857، (تحفة الأشراف: 3604) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (597، 638 وسندھما حسن)
الحكم: حسن