مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَامَ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَسْجُدُ، وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے، پھر آپ «اللہ اکبر» کہتے اور سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 37 (473)، (تحفة الأشراف: 322، 621)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 64 (706)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 48 (985)، مسند احمد (3/203، 247)، سنن الدارمی/ الصلاة 46 (1295) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (473)
الحكم: صحيح