الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ۱؎ اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/ الصلاة 84 (268)، سنن النسائی/الإفتتاح 128 (1090)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 19(882)، (تحفة الأشراف: 11780) (ضعیف)» (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں)
وضاحت
۱؎: امام دارقطنی کہتے ہیں: اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی کہتے ہیں: اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کا طریقہ شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان لوگوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (268) نسائي (1090) ابن ماجه (882)
شريك القاضي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 43
الحكم: ضعيف