مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ وَالْعَادِيَاتِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورۃ پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورۃ العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ۱؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19034أ) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی سورہ مائدہ، انعام اور اعراف پڑھنے والی حدیث، اگر منسوخ کے بجائے یہ کہا جائے کہ ”وہ بیان جواز کے لئے ہے“ تو زیادہ بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
وقول أبي داود رحمه الله غير صحيح
الحكم: صحيح مقطوع