مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 11 (396)، (تحفة الأشراف: 14172)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 104 (772)، سنن النسائی/الافتتاح 54 (970)، مسند احمد (2/ 258، 273، 285، 301، 343، 348، 411، 416، 435، 487) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس میں جہر نہیں کیا اسے آہستہ سے پڑھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (772) صحيح مسلم (396)
الحكم: صحيح