عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارِ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَتْهَا تُصَلِّي، فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيهَا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ"، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ (ایک قسم کا کھانا) دے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا (میں نے کھانا رکھ دیا)، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ناپاک نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے“، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 76]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (17979) وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 32 (367) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أم داود بن صالح لم أجد لھا ترجمة
وقال الطحاوي في مشكل الآثار (270/3): ’’ولا ھي معروفة عند أھل العلم‘‘
ولبعض الحديث شاهد ضعيف في سنن ابن ماجه (368)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
الحكم: صحيح