مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، وَكِيعٌ ، سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، مَوْلَى يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ، يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلَى يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ"، فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے“، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 15684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/64، 5/376) (ضعیف)» (اس کے راوی مولی یزید مجہول ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد مولي ليزيد بن نمران مجهول (تقريب : 2430)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
الحكم: ضعيف