مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، خَالِدٌ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: ”تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہو جائے گا، اور تم (مسجدوں میں) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 28 (432)، سنن الترمذی/الصلاة 54 (228)، (تحفة الأشراف: 9415)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/457)، سنن الدارمی/الصلاة 51 (1303) (صحیح)»
وضاحت
مسلمانوں کو ہمیشہ باوقار رہتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھنا چاہیے اور مساجد میں ہوں تو اس کا اور زیادہ اہتمام ہونا چاہیے، مسجد میں مقیم اور مسجد میں آنے والے عابدین کا حق ہے کہ وہ ان باتوں کا خیال رکھیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (432)
الحكم: صحيح