عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ ابْنٌ لَهُ: وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا، وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ، قَالَ: فَسَبَّهُ وَغَضِبَ، وَقَالَ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْذَنُوا لَهُنَّ، وَتَقُولُ: لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دے دیا کرو“، اس پر ان کے ایک لڑکے (بلال) نے کہا: قسم اللہ کی! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنائیں، قسم اللہ کی! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ مجاہد کہتے ہیں: اس پر انہوں نے (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) (اپنے بیٹے کو) بہت سخت سست کہا اور غصہ ہوئے، پھر بولے: میں کہتا ہوں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم انہیں اجازت دو“، اور تم کہتے ہو: ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجمعة 13(899)، صحیح مسلم/الصلاة 30(442)، سنن الترمذی/الصلاة 48 (570)، (تحفة الأشراف: 7385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/36، 43، 49، 98، 127، 143، 145) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقابل لا رہے ہو، احمد کی ایک روایت (۲/۳۶) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اہم مسئلہ واضح فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں اپنی سوچ اور فہم و استدلال کو اہمیت دے۔ قرآن مجید میں ہے «وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللـه ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم» ”کسی بھی مومن مرد یا عورت کو حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار رہے“ (الاحزاب، ۳۶)۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (442)
الحكم: صحيح