مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز (عشاء) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، صحیح مسلم/الحیض 33(376)، (تحفة الأشراف: 1035) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (642) صحيح مسلم (376)
الحكم: صحيح