عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، إِسْرَائِيلَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ، فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ، أَقَامَ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ تشریف لا رہے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصلاة 34 (202)، (تحفة الأشراف: 2137)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 29 (606)، مسند احمد (5/76، 78، 95، 104، 105) (صحیح)»
وضاحت
ثابت ہوا کہ اقامت کہنے کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے امام اپنے مصلے پر کھڑا ہو تب ہی اقامت کہی جائے بلکہ امام کو آتا دیکھ کر بھی تکبیر کہنا جائز ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (606)
الحكم: صحيح