بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 53 — باب: مسواک دین فطرت ہے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: مسواک دین فطرت ہے۔ حدیث 53
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ"، قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں دین فطرت ہیں ۱؎: ۱- مونچھیں کاٹنا، ۲- داڑھی بڑھانا، ۳- مسواک کرنا، ۴- ناک میں پانی ڈالنا، ۵- ناخن کاٹنا، ۶- انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ۷- بغل کے بال اکھیڑنا، ۸- ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ۲؎، ۹ - پانی سے استنجاء کرنا۔ زکریا کہتے ہیں: مصعب نے کہا: میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 53]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 16 (261)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2757)، سنن النسائی/الزینة 1 (5043)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (293)، (تحفة الأشراف: 16188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء اور پیروی کا حکم اللہ تعالی نے ہمیں اپنے قول: «فبهداهم اقتده» میں دیا ہے۔
۲؎: مسلم کی ایک روایت کے مطابق چالیس دن سے زیادہ کی تاخیر اس میں درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (261)
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (52) باب پر واپس اگلی حدیث (54) →