بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 5211 — باب: مصافحہ کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: مصافحہ کا بیان۔ حدیث 5211
حدیث نمبر: 5211 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بَلْجٍ ، زَيْدٍ أَبِي الْحَكَمِ الْعَنَزِيِّ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بَلْجٍ , عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَكَمِ الْعَنَزِيِّ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاهُ , غُفِرَ لَهُمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملیں پھر دونوں مصافحہ کریں ۱؎، دونوں اللہ عزوجل کی تعریف کریں اور دونوں اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں تو ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1761)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/293) (حسن لغیرہ)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی زید لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت حسن ہے)
وضاحت
۱؎: مصافحہ صرف ملاقات کے وقت مسنون ہے، سلام کے بعد اور نماز کے بعد، مصافحہ کرنے کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے، یہ بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
زيد بن أبي الشعثاء : مجهول (التحرير : 2141) ووثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (5210) باب پر واپس اگلی حدیث (5212) →