مُسَدَّدٌ ، بِشْرٌ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنِ أَبِيهِ، فَدَقَقْتُ الْباب، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَنَا , قال: أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: ”میں ہوں“ آپ نے فرمایا: ”میں، میں“ (کیا؟) گویا کہ آپ نے (اس طرح غیر واضح جواب دینے) کو برا جانا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاستئذان 17 (6250)، صحیح مسلم/الآداب 8 (2155)، سنن الترمذی/الاستئذان 18 (2711)، سنن ابن ماجہ/الأدب 17 (3709)، (تحفة الأشراف: 3042)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/298، 320، 363)، سنن الدارمی/الاستئذان 2 (2672) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6250) صحيح مسلم (2155)
الحكم: صحيح