حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، مِثْلَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس طریق سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے وہیب کی حدیث کے مثل حدیث مروی ہے اسماعیل کہتے ہیں: میں نے اسے ایوب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: «إلا الإقامة» (یعنی سوائے «قد قامت الصلاة» کے) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 943) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ پوری اقامت اکہری (ایک ایک بار) ہو گی البتہ «قد قامت الصلاة» کو دو بار کہا جائے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (607) صحيح مسلم (378)
الحكم: صحيح