عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، شَبَثِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ شَبَثِ بْنِ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا لَيْلَةَ صِفِّينَ فَإِنِّي ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَقُلْتُهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی علی علیہ السلام کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے ”میں نے یہ تسبیح جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی پڑھنے میں کبھی ناغہ نہیں کیا سوائے جنگ صفین والی رات کے، مجھے اخیر رات میں یاد آئی تو میں نے اسے اسی وقت پڑھ لیا“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2988)، (تحفة الأشراف: 10122) (ضعیف)» (شبث کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے ورنہ اصل واقعہ صحیح ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البخاري : ’’ لا يعلم لمحمد بن كعب سماع من شبث ‘‘(التاريخ الكبير 266/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
الحكم: ضعيف