سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ، إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبِي ، ضَمْضَمٌ ، شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبُو ظَبْيَةَ ، عَمْرٌو
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، أَنَّهُ قَرَأَ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ:حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ، أَنَّ عَمْرَو ابْنَ الْعَاصِ، قال يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ، فَقَالَ عَمْرٌو:" لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ، فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا اور (اس سے پہلے) ایک شخص کھڑے ہو کر بے تحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا: اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10747) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4803)
الحكم: حسن الإسناد