الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي السَّدُوسِيَّ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي السَّدُوسِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ، وَقَالَ شُعْبَةُ: وَقَالَ مَرَّةً: أَعُوذُ بِاللَّهِ، وقَالَ وُهَيْبٌ: عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں «اللهم إني أعوذ بك» ہے، یعنی ”اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ شعبہ کا بیان ہے کہ عبدالعزیز نے ایک بار «أعوذ بالله» ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں“ کی بھی روایت کی ہے، اور وہیب نے عبدالعزیز بن صہیب سے جو روایت کی ہے اس میں «فليتعوذ بالله» ”چاہیئے کہ اللہ سے پناہ مانگے“ کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 5]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، سنن الترمذی/الطہارة 4 (5)، (تحفة الأشراف: 1022)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/282) (شاذ)» (یعنی وہیب کی قولی روایت شاذ ہے، باقی صحیح ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: شاذ