بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 4987 — باب: نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟ حدیث 4987
حدیث نمبر: 4987 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، أَبِي ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسِبُ أَحَدًا إِلَّا إِلَى الدِّينِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دین کے علاوہ کسی اور معاملے کی طرف کسی کی نسبت کرتے نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16088) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: امام منذری کہتے ہیں کہ شاید ابوداود نے اس باب میں اس حدیث کو اس لیے داخل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو صرف دین کی طرف منسوب کرتے تھے، تا کہ اس حدیث کے ذریعہ سے لوگوں کو اس بات کی طرف رہنمائی کریں کہ کتاب وسنت میں وارد الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے، اور لوگوں کو جاہلی الفاظ و عبارات کے استعمال سے روکیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لفظ «عتمہ» کی جگہ «عشاء» کا استعمال کیا اور یہ حدیث منقطع ہے، زید بن اسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا ہے۔(عون المعبود ۱۳/۲۲۷)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
زيد بن أسلم لم يسمع من عائشة رضي اللّٰه عنھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (4986) باب پر واپس اگلی حدیث (4988) →