مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،" أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ:" قُمْ أَوْ قَالَ: اذْهَبْ , فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے (خطبہ میں) کہا: «من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما» جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے ... (ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ) آپ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ“ یا یوں فرمایا: چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (1099)، (تحفة الأشراف: 9850) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس خطیب کو اس لئے برا کہا کہ اس نے «من يعصهما» کہہ کر اللہ اور رسول دونوں کو ایک ہی ضمیر میں جمع کر دیا تھا، خطبہ میں باتوں کو تفصیل سے کہنے کا موقع ہوتا ہے، اور سامعین میں ہر سطح کے لوگ ہوتے ہیں، مقام کا تقاضا تفصیل کا تھا یعنی: «من یعص اللہ ویعص رسولہ» کہنے کا، تاکہ کسی طرح کا التباس نہ رہ جاتا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (870)
الحكم: صحيح