بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 4911 — باب: مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟ حدیث 4911
حدیث نمبر: 4911 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے، اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 62 (6077)، الاستئذان 9 (6237)، صحیح مسلم/البر والصلة 8 (2560)، سنن الترمذی/البر والصلة 21 (1932)، (تحفة الأشراف: 3479)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/حسن الخلق 4 (13)، مسند احمد (4165، 421، 422) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کیونکہ اس کا پہل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تواضع اور خاکساری زیادہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6077) صحيح مسلم (2560)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4910) باب پر واپس اگلی حدیث (4912) →