بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 4900 — باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔ حدیث 4900
حدیث نمبر: 4900 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 34 (1019)، (تحفة الأشراف: 7328) (ضعیف) (عمران بن انس ضعیف راوی ہیں)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مرے ہوئے کافروں اور فاسقوں کی برائیوں کا ذکر اگر اس لیے کیا جائے تاکہ لوگ اس سے بچیں اور عبرت حاصل کریں تو جائز ہے، اسی طرح سے ضعیف اور مجروح رواۃ حدیث پر جرح و تنفید بھی باتفاق علماء جائز ہے، خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ، اس لیے کہ اس کا مقصد عقیدہ، علم، اور حدیث کی خدمت و حفاظت ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1019)
وقال البخاري:’’ عمران بن أنس المكي : منكر الحديث ‘‘(سنن الترمذي : 1019)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (4899) باب پر واپس اگلی حدیث (4901) →