مُسَدَّدٌ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ، قَالَ:" أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَاكُ، وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ: آهْ آهْ يَعْنِي يَتَهَوَّعُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلًا، وَلَكِنِّي اخْتَصَرْتُهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (مسدد کی روایت میں ہے کہ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور سلیمان کی روایت میں ہے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے ”اخ اخ“ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 49]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 73 (244)، صحیح مسلم/الطھارة 15 (254)، سنن النسائی/الطھارة 3 (3)، (تحفة الأشراف: 9123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/417) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (244) صحيح مسلم (254)
الحكم: صحيح