مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، رَجُلٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" الْيَهُودُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا مِنْهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ مسجد میں اپنے اصحاب میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان یہودیوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم ایک مرد اور ایک عورت کے سلسلے میں جنہوں نے زنا کر لیا ہے ۱؎ آئے ہیں (تو ان کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15492)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/279)ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة برقم (3624،3625)، وفی الحدود برقم (4450، 4451) (ضعیف)» (رجل مزینہ مجہول ہے)
وضاحت
۱؎: باب کی ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر بوقت ضرورت مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من مزينة: لم أعرفه
وانظر الحديث الآتي (3624،4450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31
الحكم: ضعيف