ابْنُ الْمُصَفَّى ، بَقِيَّةُ ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، بَقِيَّةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , وَأَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ لَيْسَ فِيهِ أَنَسٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں انس موجود نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/224) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5046)
الحكم: صحيح