مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ ، أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِي قَصِيرَةً، فَقَالَ لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ , قَالَتْ: وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے لیے تو صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ اور یہ عیب ہی کافی ہے، یعنی پستہ قد ہونا تو آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس پر بھی غالب آ جائے“ اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا (مال) ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/صفة القیامة 51 (2502، 2503)، (تحفة الأشراف: 16132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/128، 136، 189، 206) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4853)
أخرجه الترمذي (2502 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح