أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ، أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ، أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں (یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے) سوائے تین مجلسوں کے، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/342) (ضعیف)»
وضاحت
۱؎: ان تینوں صورتوں میں سننے والے کے لئے اس کا چھپانا جائز نہیں، بلکہ اس کا افشاء برائی کے دفعیہ کے لیے ضروری ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أخي جابر : مجهول،لم أجد له ترجمة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
الحكم: ضعيف