النُّفَيْلِيُّ ، مَالِكٌ ، الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ،" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«خ /الصلاة 85 (475)، اللباس 103 (5969)، الاستئذان 44 (6287)، صحیح مسلم/اللباس 22 (2100)، سنن الترمذی/الأدب 19 (2765)، سنن النسائی/المساجد 28 (722)، (تحفة الأشراف: 5298)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/السفر 24 (87)، مسند احمد (4/39، 40)، دی/الاستئذان 27(2698) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں بظاہر تعارض ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب لنگی (ازار) تنگ ہو، اور ایسا کرنے سے ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، اور اگر ازار کشادہ ہو، اور ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو درست ہے، یا دونوں پیر پھیلا کر ایسا کرنا درست ہے، کیونکہ اس صورت میں ستر کھلنے کا اندیشہ نہیں رہتا، البتہ ایک پیر کو کھڑا کر کے دوسرے کو کھڑے پر رکھنا درست نہیں کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (475) صحيح مسلم (2100)
الحكم: صحيح