إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ ، تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ ، كَعْبٍ الْإِيَادِيِّ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ كَعْبٍ الْإِيَادِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ،فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَامَ فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَيْهِ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب الایادی کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء کے پاس آتا جاتا تھا تو ابو الدرداء نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے تو آپ (کسی کام سے جانے کے لیے) کھڑے ہوتے اور لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی جوتیاں اتار کر رکھ جاتے یا اور کوئی چیز رکھ جاتے جو آپ کے پاس ہوتی، اس سے آپ کے اصحاب سمجھ لیتے تو وہ ٹھہرے رہتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10960) (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
تمام بن نجيح : ضعيف،وكعب بن ذھل : فيه لين (تق: 798،5639)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
الحكم: ضعيف