بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 4830 — باب: کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟ حدیث 4830
حدیث نمبر: 4830 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، ابْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْكَلَامِ الْأَوَّلِ إِلَى قَوْلِهِ: وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ مَثَلَ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے شروع سے «طعمها مر» (اس کا مزا کڑوا ہے) تک اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور ابن معاذ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور ہم آپس میں کہتے تھے کہ اچھے ہم نشین کی مثال، پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآں 17 (5020)، 36 (5059)، والأطعمة 30 (5427)، والتوحید 57 (7560)، صحیح مسلم/المسافرین 37 (797)، سنن الترمذی/الأمثال 4 (2865)، سنن النسائی/الإیمان 32 (5041)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 16(214)، مسند احمد (4/397، 408)، (تحفة الأشراف: 8981) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5059) صحيح مسلم (797)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4829) باب پر واپس اگلی حدیث (4831) →