ابْنُ السَّرْحِ ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، مَنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ، وَقَالَ مَخْلَدٌ: فِي الْفَيْءِ، فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ، فَلْيَقُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو (مخلد کی روایت) سایہ میں ہو، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آ جائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/383) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس لئے کہ اس سے ضرر کا اندیشہ ہے، جیسے بیک وقت گرم و سرد چیز کا استعمال مضر ہوتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (4725)
وللحديث شاھد عند ابن ماجه (3722 وسنده حسن)
الحكم: صحيح