أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَمَنْدَلٌ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِي جَهْمٍ ، خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أخبرنا زُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَمَنْدَلٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي جَهْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جماعت ۲؎ سے ایک بالشت بھی علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: 11908)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/180) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: خوارج جمع ہے خارجی کی، یہ ایک گمراہ فرقہ ہے، یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے پھر ان کے لشکر سے نکل کر فاسد عقیدے اختیار کئے اور آپ کے خلاف قتال کیا، ان کا عقیدہ ہے: کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے، یہ لوگ علی،عثمان، معاویہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم وغیرہم کی تکفیر کرتے ہیں، علی اور معاویہ نے ان لوگوں سے قتال کیا اور ان کے فتنہ کا سد باب کیا۔
۲؎: امام جماعت سے یا مسلمانوں کے اجتماعی معاملہ سے علیحدگی اختیار کی وہ گمراہی و ہلاکت کا شکار ہوا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (185)
خالد بن وھبان حسن الحديث ورواه ابن أبي عاصم في السنة (1053 وسنده صحيح) ولفظه: ’’من فارق الجماعة والإسلام فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه‘‘
الحكم: صحيح